علمائے کرام کے وفد کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات

شائع 30 مارچ 2020 05:01pm
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ- فائل فوٹو

وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ پولیس کو نماز جمعہ کے لئے تیار کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر مساجد کے پیش اماموں اور دیگر کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔

علما کرام کے وفد نے مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی کی سربراہی میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے مختلف مکاتب فکر کے ممتاز علمائے کرام اور ڈاکٹروں سے مشاورت کے بعد  یہ  فیصلہ کیا تھا کہ کورونا وائرس کے خطرے کے سبب جمعہ کی نماز مسجد کے امام ، مؤذن ، خادم اور دو دیگر افراد کے درمیان ہوگی لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے  اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی  کی جس کے نتیجے میں  قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ چونکہ علمائے کرام نے اپنے خلاف مقدمات کے اندراج کا معاملہ اٹھایا ہے  لہذا میں انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کر رہا ہوں کہ وہ پورے سندھ میں پیش اماموں اور دیگر لوگوں کے خلاف درج ایف آئی آرز کو علمائے کرام سے اس درخواست کے ساتھ واپس لے لیں کہ وہ اپنی جمعہ کی جماعت کو پانچ افراد تک محدود رکھیں گے، جیسا کہ پہلے اتفاق کیا گیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ تفصیلی غور و خوض کے بعدجماعت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  مقصد اپنے لوگوں کو اس بیماری سے بچانا ہے اور یہ علمائے کرام کے تعاون سے ہی ممکن ہوگا۔انہوں نے کہاکہ الحمد اللہ  ہماری مساجد کھلی ہوئی ہیں ، پانچ بار اذان دی جاتی ہے اور وہاں محدود لوگوں کی جماعت بھی ہوتی ہے۔

 علمائے کرام نے وزیراعلیٰ سندھ کی کاوشوں کی تعریف کی اور انہیں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اپنے مکمل تعاون  کا یقین دلایا۔